فاطمہ ثنا! بھڑکیں نہیں، اب مثبت نتائج دیں

34

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے دورۂ سری لنکا سے قبل ایک بار پھر روایتی انداز میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ٹیم ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھائے گی، نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دیے جائیں گے اور ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ون ڈے سیریز میں ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آئندہ بھی اسی اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

تاہم یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قومی ویمنز ٹیم کی حالیہ کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ گزشتہ بین الاقوامی ٹورنامنٹس، خصوصاً ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ اور اس سے قبل آئرلینڈ کے خلاف سیریز میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی نے شائقین اور سابق کرکٹرز کو سخت مایوس کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر دورے اور بڑے ٹورنامنٹ سے قبل یہی دعوے اور وعدے سننے کو ملتے ہیں، مگر میدان میں ان کا عکس نظر نہیں آتا۔

تنقید صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوچنگ اسٹاف بھی سوالات کی زد میں ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق زمبابوے جیسی نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کامیابیوں کو غیر معمولی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ اس دوران کوچنگ اسٹاف کی تقریبات اور جشن بھی تنقید کا باعث بنے۔ اس کے برعکس، بڑے ایونٹس میں ناکامیوں کے بعد نہ تو کوچنگ اسٹاف کی کارکردگی کا کھل کر جائزہ لیا گیا اور نہ ہی ٹیم میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔

یہ تاثر بھی سامنے آتا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود ٹیم کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی نہ ہونا پاکستان میں ویمنز کرکٹ کے ٹیلنٹ پول اور ڈومیسٹک نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ بعض مبصرین کا یہ بھی موقف ہے کہ متبادل پول نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل سینئر کھلاڑیوں کو پتہ ہے کہ آپ کارکردگی دکھائیں یا نہ دکھائیں پیسے بھی ہمیں ملنے ہیں اور ٹور بھی ہمیں ہی ملنے ہیں ۔

اب جبکہ قومی ویمنز ٹیم دورۂ سری لنکا کی تیاری کر رہی ہے، شائقین کی توقعات صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ وہ میدان میں واضح بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ اصل امتحان ایک بار پھر الفاظ کا نہیں بلکہ نتائج کا ہوگا، کیونکہ مسلسل ایک جیسے دعوے اس وقت تک مؤثر نہیں سمجھے جائیں گے جب تک ٹیم اپنی کارکردگی سے ان پر مہر ثبت نہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں