پاکستان، چین کے ساتھ موسمیاتی تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے: مصدق ملک

43

 وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تحقیق، گلیشیئرز کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہ آج چین میں منعقدہ پانچویں چائنا ژیزانگ ٹرانس ہمالیہ فورم سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے قدرتی وسائل اور یہاں آباد آبادیوں کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 13 ہزار 500 گلیشیئرز موجود ہیں، جو ملک کی تہذیب، آبی تحفظ اور ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے یہ قدرتی ذخائر شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں سیلاب اور خشک سالی جیسے واقعات کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کے باعث تقریباً 6 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے گلیشیئرز کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے خطے کے محققین اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے ورچوئل گرین یونیورسٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانس ہمالیہ فورم پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں