جینک سنر نے ومبلڈن ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے پانچواں گرینڈ سلیم اپنے نام کر لیا

5

عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار جینک سنر نے ومبلڈن 2026 کے مردوں کے سنگلز فائنل میں جرمنی کے الیگزینڈر زویریف کو سنسنی خیز چار سیٹوں کے مقابلے کے بعد 6-7(7)، 7-6(2)، 6-3، 6-4 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار ومبلڈن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

اس فتح کے ساتھ سنر نے نہ صرف اپنے ومبلڈن اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ اپنے کیریئر کا پانچواں گرینڈ سلیم ٹائٹل بھی جیت لیا، جس سے عالمی ٹینس میں ان کی برتری مزید مضبوط ہوگئی۔

زویریف نے میچ کا آغاز شاندار انداز میں کیا اور پہلے سیٹ کے سخت مقابلے کے بعد ٹائی بریک میں کامیابی حاصل کر لی۔ جرمن کھلاڑی نے طاقتور سروسز اور جارحانہ کھیل کی بدولت سنر کو سخت چیلنج دیا، جو حالیہ برسوں میں ان کے خلاف ان کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک تھی۔

تاہم، دوسرے سیٹ کے ٹائی بریک میں سنر نے اپنے تجربے اور اعصاب کی مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کا رخ موڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے شاندار ریٹرن، مضبوط بیس لائن کھیل اور مسلسل دباؤ کے ذریعے مقابلے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

میچ کا فیصلہ کن لمحہ تیسرے سیٹ میں آیا، جب زویریف ایک ڈراپ شاٹ کا تعاقب کرتے ہوئے پھسل گئے اور ان کے گھٹنے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ اس موقع پر سنر فوراً نیٹ پار کر کے اپنے حریف کی مدد کے لیے پہنچے، جسے کھیل کے بہترین جذبے کی مثال قرار دیا گیا۔ اگرچہ زویریف نے کھیل جاری رکھا، لیکن وہ پہلے جیسی شدت برقرار نہ رکھ سکے اور سنر نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سنر نے 3 گھنٹے 47 منٹ تک جاری رہنے والے اس دلچسپ مقابلے میں فتح حاصل کرتے ہوئے زویریف کے خلاف اپنی مسلسل دسویں کامیابی بھی درج کی۔

اطالوی اسٹار نے آسٹریلین اوپن اور فرنچ اوپن میں مایوس کن نتائج کے بعد ومبلڈن میں شاندار واپسی کی۔ پہلے راؤنڈ میں پانچ سیٹوں کے سخت مقابلے سے بچ نکلنے کے بعد انہوں نے باقی تمام میچز سیدھے سیٹوں میں جیت کر ایک بار پھر ومبلڈن ٹرافی اپنے نام کی۔

اس تاریخی کامیابی کے بعد جینک سنر نے نہ صرف مسلسل دوسری بار ومبلڈن چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ اس وقت مردوں کی عالمی ٹینس کے سب سے مضبوط اور غالب کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں