نوجوان کھلاڑیوں سے بھرے ٹیبل ٹینس کورٹ میں نوشین اسلم نمایاں نظر آ رہی تھیں۔
55 سال کی عمر میں وہ 2026 کے ایشین گیمز میں خواتین کے ٹیم مقابلوں میں سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی تھیں اور اپنے سے کئی دہائیاں کم عمر کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہی تھیں۔
پھر انہوں نے اپنا پیڈل اٹھایا۔
نوشین نے اتوار کو خواتین کے مقابلوں کے پہلے روز پاکستان کی جانب سے ٹیم کے 2 میچوں میں حصہ لیا۔ اگلے روز پاکستان کے آخری گروپ میچ میں انہوں نے شرکت نہیں کی تاہم ناگویا میں ان کی موجودگی پہلے ہی ان کے لئے ایک ذاتی سنگ میل بن چکی تھی۔
یہ ان کے پہلے ایشین گیمز تھے۔ یہ بھی پہلی مرتبہ تھا کہ وہ کسی بین الاقوامی مقابلے کے لئے بیرون ملک گئی تھیں۔
نوشین نے کہا کہ ’’ایشین گیمز میرا خواب ہے۔ یہ ایک شاندار اور بہت اچھی طرح منظم ایونٹ ہے۔ یہاں سب لوگ بہت اچھے ہیں اور میرے لئے یہ ایک بہترین تجربہ ہے۔ میں اس سے لطف اندوز ہو رہی ہوں۔‘‘
یہ تجربہ نوشین کے لئے ایک خواب کی تعبیر تھا لیکن اس کے ساتھ کافی گھبراہٹ بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بہت گھبرائی ہوئی تھی اور میں نے بہت اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔‘‘
نتائج ان کے حق میں نہیں رہے لیکن میچ ختم ہونے کے بعد نوشین اور ان کی ساتھی کھلاڑی کورٹ کے کنارے تصاویر کے لئے جمع ہوئیں، مسکرا رہی تھیں اور ایسے لمحے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں جس کی اہمیت سکور سے کہیں زیادہ تھی۔
نوشین کا تعلق لاہور سے ہے۔ انہوں نے 12 سال قبل اس وقت ٹیبل ٹینس کھیلنا شروع کیا جب وہ پہلے ہی 3بیٹوں کی ماں تھیں اور جلد ہی انہیں اس کھیل سے محبت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سے میں متحرک اور فٹ رہتی ہوں اور مجھے ٹیبل ٹینس کھیلنے میں مزہ آتا ہے۔‘‘
نوشین کے تینوں بیٹے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ دوسری جانب ان کی ٹیبل ٹینس کی کئی ساتھی اور حریف کھلاڑی ان کے بچوں کی عمر کے قریب ہیں۔ ناگویا میں ان کی ایک ساتھی کھلاڑی علینہ خان کی عمر صرف 15 سال ہے۔
لیکن جب نوشین کورٹ میں اترتی ہیں تو عمر کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔
نوشین نے کہا کہ ’’جب بھی میں کھیلتی ہوں، مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے اور میں اپنی زندگی کی پریشانیاں بھول جاتی ہوں۔ عمر صرف ایک عدد ہے۔ میرے خیال میں ٹیبل ٹینس مہارت کا کھیل ہے۔ اگر آپ کی مہارت اچھی ہے تو پھر کسی اور چیز کی اہمیت نہیں رہتی۔‘‘
تربیت کے لئے وقت نکالنا کبھی آسان نہیں رہا۔ ایک ماں اور ملازمت پیشہ خاتون ہونے کے ناطے نوشین کو ٹیبل ٹینس کے ساتھ اپنے بچوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانے اور ملازمت کی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔
وہ اکثر رات کے وقت تربیت کرتی ہیں اور اپنی روزمرہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد جتنا وقت مل سکے، اس میں مشق کرتی ہیں۔ وہ کئی برس سے اسی طرح مسلسل کھیل سے جڑی ہوئی ہیں۔
نوشین کا تجربہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں ٹیبل ٹینس کس طرح ترقی کر رہی ہے۔ لاہور میں اچھی سہولیات کے حامل کئی کلب موجود ہیں، جہاں لڑکے اور لڑکیاں باقاعدگی سے یہ کھیل کھیلتے ہیں۔ نوشین نوجوان کھلاڑیوں کو بنیادی تکنیک سکھانے میں بھی خوشی محسوس کرتی ہیں۔
اس کھیل کو سکولوں کے ذریعے بھی نوجوان کھلاڑیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے سکول پروگرام کا آزمائشی منصوبہ 2025 کے اواخر میں شروع ہوا تھا اور اس کے بعد یہ 4 براعظموں کے 6 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں اس پروگرام کے تحت 4 سکولوں میں ٹیبل ٹینس کو باقاعدہ سکول سپورٹس سرگرمی کے طور پر متعارف کرایا گیا جس میں 80 طلبہ نے حصہ لیا۔
اس اقدام کا مقصد ٹیبل ٹینس کو سکول کی زندگی کا حصہ بنانا اور طلبہ میں اعتماد، ٹیم ورک اور نظم و ضبط جیسی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
نوشین کے لئے کھیل کی ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ مزید نوجوان کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں جس سے مقابلہ مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
نوشین نے ایشین گیمز کی تیاری کے لئے 2سے 3ماہ تک مشق کی جبکہ ان کے شوہر اور بچوں نے پورے عرصے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ تاہم ناگویا میں اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے والی کم عمر کھلاڑیوں کا سامنا کرتے ہوئے انہیں اپنے اور ان کے درمیان فرق کا اندازہ ہوا۔
شکستوں کے باوجود نوشین ناگویا سے ایک اور ہدف اپنے ذہن میں لے کر واپس آئیں۔ ریٹائرمنٹ ابھی ان کے پیش نظر نہیں۔ ان کا اگلا ہدف جنوبی ایشیائی کھیلوں میں شرکت ہے جو اگلے اپریل میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ہیں۔
نوشین نے کہا کہ ’’میرے خیال میں میری جسمانی حالت اب بھی اچھی ہے۔ شاید میں مزید 2 یا 3سال کھیل سکتی ہوں۔‘‘
پھر مسکراتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’’شاید اگلی بار میری کارکردگی بہتر ہو۔‘‘
55 سالہ پاکستانی خاتون ٹیبل ٹینس کھلاڑی کی ایشین گیمز میں پہلی بار شرکت
10

