احسن اقبال کا قابلِ عمل منصوبوں اور پاکستان، ازبکستان علاقائی رابطوں کے فروغ پر زور

10

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، جو وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام میں شرکت کے لیے منگولیا کے دورے پر ہیں، نے ازبکستان کی وزارت سرمایہ کاری، صنعت و تجارت کے نائب وزیر الزت کاسی موف کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کی۔

ملاقات میں علاقائی رابطوں، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالی معاونت کے حصول سمیت بالخصوص ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کو سیاسی مفاہمت کو قابلِ عمل منصوبوں اور ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا کی منڈیوں کو پاکستان کی بندرگاہوں سے ملانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی جلد مکمل کرنے، کثیر ملکی اور دوطرفہ مالی معاونت کے ذرائع کی نشاندہی اور منصوبے پر عملدرآمد کے لیے واضح لائحہ عمل وضع کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ مالی معاونت کے لیے رابطہ کاری کا طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ترجیحی علاقائی منصوبوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے مشترکہ طور پر مالی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کو محض ریلوے منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط معاشی راہداری کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے، جس میں ریلوے، شاہراہیں، رسد کے نظام، بندرگاہیں اور صنعتی مراکز باہم منسلک ہوں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کو سرمایہ کاری پر مبنی تجارت اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کو فروغ دینا چاہیے، بالخصوص ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، زراعت، معدنیات، انجینئرنگ اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور موجودہ معاہدوں کو واضح مدت اور مالی معاونت کے انتظامات کے ساتھ ٹھوس منصوبوں میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ گوادر بندرگاہ ازبکستان اور وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کے ممالک کے لیے اہم تجارتی راہداری بن سکتی ہے، جبکہ پاکستان اور ازبکستان کسٹمز نظام میں ہم آہنگی اور معیاری طریقہ کار کے لیے تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے مشترکہ سیاحتی پروگرام، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے اور روسی زبان کی تعلیم کے فروغ پر بھی زور دیا تاکہ پاکستانی طلبہ اور تعلیمی اداروں کے لیے روس اور وسطی ایشیا میں نئے مواقع پیدا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں