تقریباً نصف بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہے، ماہرینِ امراضِ معدہ و جگر

تقریباً نصف بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہے، ماہرینِ امراضِ معدہ و جگر

پشاور(سی این پی ) ماہرینِ امراضِ معدہ و جگر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً نصف بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات موٹاپا، جنک فوڈ کا بڑھتا استعمال، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور غیر متحرک طرزِ زندگی ہیں، یہ بیماری اب وبائی شکل اختیار کر چکی ہے اور بچے حتیٰ کہ دبلے پتلے افراد بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق فیٹی لیور، جسے اب “میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز” (MASLD) کہا جاتا ہے، ایسی بیماری ہے جس میں جگر کے خلیات میں چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یہ بیماری خاموش رہتی ہے اور اکثر مریضوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا، لیکن وقت کے ساتھ جگر میں سوزش، فائبروسس، جگر سکڑنے، جگر فیل ہونے اور جگر کے سرطان تک کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان میں ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، فالج اور گردوں کی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھا رہی ہے، جبکہ کئی مریض کم عمری میں مستقل ادویات، معذوری اور مہنگے علاج پر مجبور ہو رہے ہیں۔

یہ تشویشناک انکشافات پاکستان جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی (پی جی ایل ڈی ایس) کی آٹھویں سالانہ کانفرنس کے دوران سامنے آئے، جو پشاور میں “مستقبل کو بااختیار بنانا، معدہ و جگر کے امراض کے علاج میں جدت” کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر سے سینکڑوں گیسٹروانٹرولوجسٹس، ہیپاٹولوجسٹس، معالجین اور نوجوان ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

پی جی ایل ڈی ایس کی صدر پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موٹاپے، ذیابطیس اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کے باعث فیٹی لیور دائمی جگر کے امراض کی بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑی آنت کے سرطان کے کیسز بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خصوصاً نوجوان افراد میں، جبکہ آگاہی کی کمی، مالی مشکلات اور سماجی رکاوٹیں بروقت اسکریننگ اور تشخیص میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تربیت یافتہ خواتین گیسٹروانٹرولوجسٹس کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے خواتین مریضوں کو علاج میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی جی ایل ڈی ایس خواتین ڈاکٹروں اور نوجوان ماہرین کو معدہ و جگر کے شعبے میں آگے لانے کے لیے تعلیمی مواقع، رہنمائی اور قائدانہ کردار فراہم کر رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سجاد جمیل نے کہا کہ دنیا اس وقت فیٹی لیور کی “وبا” کا سامنا کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ مرض خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دبلے پتلے افراد میں بھی فیٹی لیور بڑھ رہا ہے، جس کی وجوہات ناقص غذا، میٹابولک خرابیاں اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہیں۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ جنک فوڈ سے پرہیز کریں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور ضرورت پڑنے پر معالجین کے مشورے سے ادویات استعمال کریں تاکہ جگر کے مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

کانفرنس کے منتظم ڈاکٹر جبران عمر ایوب نے کہا کہ فیٹی لیور کی بروقت تشخیص نہایت ضروری ہے اور سادہ الٹراساؤنڈ اور فائبرواسکین کے ذریعے جگر کو ہونے والے نقصان کا ابتدائی مرحلے میں پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

پی جی ایل ڈی ایس کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر شاہد احمد نے آنتوں کی سوزش کی بیماری (آئی بی ڈی) پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معدہ و آنتوں کے امراض کی جلد تشخیص سے علاج کے نتائج بہتر ہوتے ہیں اور مریضوں کو عطائیوں سے بچ کر مستند ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرِ امراضِ جگر پروفیسر ڈاکٹر نازش بٹ نے فیٹی لیور کے جینیاتی اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کی آبادی میں ماضی کی قحط سالیوں کے باعث بعض جینیاتی تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں، جو موجودہ دور میں موٹاپے اور فیٹی لیور کے رجحان میں کردار ادا کر رہی ہیں۔

ماہرِ امراضِ ذیابطیس پروفیسر اے ایچ عامر نے موٹاپے کے علاج میں جدید ادویات خصوصاً سیمیگلوٹائیڈ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی جی ایل پی ون ادویات وزن کم کرنے، ذیابطیس، دل کے امراض اور فیٹی لیور کے علاج میں امید افزا نتائج دے رہی ہیں، بشرطیکہ انہیں صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔

کانفرنس میں میٹابولک لیور ڈیزیز، موٹاپا، ہیپاٹائٹس، اینڈوسکوپی، جگر کی پیوندکاری، معدہ و آنتوں کے سرطان اور جدید علاج پر سائنسی سیشنز بھی منعقد ہوئے، جبکہ نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور تحقیق کے فروغ کے لیے عملی ورکشاپس اور فری پیپر پریزنٹیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا-

-- مزید آگے پہنچایے --