صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی اندرونی یا بیرونی عنصر کو ہمسایہ سرزمین کو اس کے امن کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے اسلام آباد میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے سے باہر تک پھیلنے والا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو کوئی بھی ملک ایک اور ہولناک حملے کا نشانہ بن سکتا ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور دوست ممالک کی متعدد سفارتی کوششوں کے باوجود افغانستان کی موجودہ انتظامیہ مختلف دہشت گرد تنظیموں بشمول القاعدہ، بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ میں کیے گئے وہ تمام وعدے، جن میں افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا عہد شامل تھا، پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے جو بدامنی اور جنگی معیشت پر زندہ ہیں، اور افغان طالبان کو کسی دوسرے ملک کے عزائم کے لیے میدانِ جنگ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
صدر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب مذاکرات جاری تھے۔ انہوں نے برادر ملک ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت، قطر اور سعودی عرب پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے زور دیا کہ قومی خودمختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کو مضبوط بنا کر ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی ہم آہنگی کے فروغ اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل، مالیاتی تقسیم، توانائی میں ہم آہنگی اور پانی کے انتظام سے متعلق امور کو باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان کے حوالے سے صدر نے کہا کہ حکومت بلوچ عوام کے حقیقی سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کی ترقی میں برابر کے شریک ہیں اور رہیں گے۔
مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کی جائز جدوجہد کے لیے اپنی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک کوئی ملک مکمل طور پر محفوظ اور آزاد نہیں ہو سکتا جب تک کشمیری عوام بھارتی قبضے سے آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔
بھارتی قیادت کی جنگی بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور دیا جائے گا اور پاکستان ہر قسم کے چیلنج کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگی راستوں کے بجائے بامقصد مذاکرات ہی علاقائی سلامتی کا واحد راستہ ہیں۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کو کھلی آبی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کا دفاع اتحاد، عزم، طاقت اور قانونی بنیادوں پر کرے گا۔
خارجہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکیہ کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے کو اہم سنگِ میل قرار دیا۔
فلسطین کے حوالے سے صدر نے کہا کہ پاکستان انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔