جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے اخراجات عالمی معاشی نمو کے لیے خطرہ، اے سی سی اے اور آئی ایم اے کا سروے

16

جغرافیائی سیاسی عدم استحکام، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافہ عالمی معاشی نمو کے لیے اہم خطرات بن رہے ہیں، تاہم ایشیا پیسیفک میں کاروباری سرگرمیوں اور نئے آرڈرز میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ انکشاف ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (IMA) کے تازہ سروے میں ہوا ہے۔

سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے کے مطابق ایشیا پیسیفک میں نئے کاروباری آرڈرز کا اشاریہ مسلسل دوسری سہ ماہی میں بہتر ہوا اور سروے کی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ سرمایہ جاتی اخراجات اور روزگار کے اشاریوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

تاہم، خطے میں اکاؤنٹنٹس کا کاروباری اعتماد تیسری سہ ماہی میں نمایاں طور پر کم ہوا اور دوسری سہ ماہی میں ہونے والے اضافے کا تقریباً تین پانچواں حصہ واپس ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں اس کمی کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔

سروے میں ایشیا پیسیفک کے 24.1 فیصد مالیاتی ماہرین نے جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 18.4 فیصد رہی۔ ہنرمند افرادی قوت کی کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو بھی خطے میں اہم خطرات سمجھا گیا۔

ایشیا پیسیفک میں 62 فیصد شرکاء نے تیسری سہ ماہی کے دوران کاروباری اخراجات بڑھنے کی اطلاع دی، جبکہ سروے کی طویل مدتی اوسط 52 فیصد ہے۔ اسی طرح، 41 فیصد شرکاء کو توقع ہے کہ اگلے تین ماہ میں ان کے ممالک میں شرح سود بڑھے گی۔ دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 30 فیصد اور پہلی سہ ماہی میں 24 فیصد تھی۔

عالمی سطح پر تقریباً 70 فیصد اکاؤنٹنٹس نے آپریٹنگ اخراجات میں اضافے کی اطلاع دی، جبکہ تقریباً نصف شرکاء کو آئندہ تین ماہ میں شرح سود بڑھنے کی توقع ہے۔

اے سی سی اے(ACCA) کے چیف اکانومسٹ جوناتھن ایش ورتھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں عالمی سرمایہ کاری سے ایشیا پیسیفک کو فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ال نینو کے شدید موسمی اثرات معاشی نمو کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

آئی ایم اے (IMA) کے سینئر ڈائریکٹر الین مولڈر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری عالمی نمو کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں اور سرکاری بانڈز پر بڑھتی شرح منافع معاشی سرگرمیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کاروباری ادارے صارفین پر مزید لاگت منتقل کر سکتے ہیں، جس سے طلب متاثر ہونے اور بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں