سندھ اور بلوچستان حکومتوں نے عوام دوست بجٹ پیش کر دیے

4

 سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنے اپنے بجٹ صوبائی اسمبلیوں میں پیش کر دیے، جن میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں 3,562 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی، جبکہ 2022 اور 2025 کے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا۔

تعلیم کے شعبے کے لیے 620 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار گھرانوں میں مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ بھی صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس کا کل حجم 1,089 ارب روپے ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب روپے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے جبکہ غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 40 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق اسکول ایجوکیشن کے شعبے کے لیے 127 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

دونوں صوبائی حکومتوں کا کہنا ہے کہ بجٹ کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا، ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں