وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کسی کو بھی ملک کی مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کو نقصان نہیں پہنچانے دیا جائے گا۔
انہوں نے آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار دس سے دو ہزار چھبیس تک قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کو انسداد دہشتگردی کے لیے آٹھ سو ارب روپے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے، پولیس فورس کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ضروری اسلحہ خریدنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے مشترکہ وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ معاملات خوش اسلوبی سے حل کئے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے خلوصِ نیت سے کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔

