غرناطہ کا چوپان (قسط نمبر 44)

غرناطہ کا چوپان (قسط نمبر 44)

شاہراہ پر جنوب کی طرف بھاگ کھڑے ہونا۔ وہ مسلح عیسائی جو ان سمجھیں گے کہ تم مسلمانوں کے قافلے کے مسلح جوان ہو اور ان کی راہ روکنے کا ارادہ رکھتے ہو اور اب بھاگ کھڑے ہوئے ہو لہذا وہ بھی اس شاہراہ پر آئیں گے تو میں گھات سے نکل کر ان پر پشت کی طرف سے حملہ آور ہوں گا جوں ہی تم دیکھو کہ میں نے پشت کی طرف سے حملہ کر دیا ہے تم بھی مڑنا پھر اپنی پوری خونخواری سے ان پر حملہ آور ہو جانا۔ اس طرح دو طرفہ حملے سے ہم اس گروہ کو بھی ہیں کر رکھ دیں گے۔
مجاہد بن یوسف جو بے چارہ بول نہیں سکتا تھا۔ نے سر کے اشارے سے رقیم بن خلاط کی اس تجویز سے اتفاق کیا۔ پھر رقیم بن خلاط اپنے حصے کے لشکر کے ساتھ تھوڑا سا آگے جا کر گھات میں بیٹھ گیا تھا۔ اس نے اپنے لشکر کو مزید دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ آدھے حصے کو اس نے شاہراہ کے بائیں جانب اور دوسرے آدھے کو لے کر وہ دائیں جانب بیٹھ گیا تھلہ پھر بڑی بے چینی سے دشمن کا انتظار کرنے لگا تھا۔
آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے جس کی بناء پر بارش شروع ہو گئی تھی کو ہستانوں میں گرتی بوندوں کی رم جھم کا سماں بندھ گیا تھا۔ بارش کی ان برستی بوندوں کی رم جھم کے سوا چاروں طرف زعفران وادیوں میں تشنگی کے بیج جیسی خاموشی ، سمندر کی انہونی گہرائیوں میں نہاں لمحوں جیسی چپ طاری تھی۔ لگتا تھا خزاں کے اجنبی سکوت میں چیختے بن حیراں اداس اور لرزاں ہو کر رہ گئے ہوں ۔ خاموشی کے ایسے سے میں ایک چٹان کی اوٹ میں ایک بڑے پتھر پر بیٹھا ہوا رقیم بین خلاط چونک اٹھا تھا۔ اس کے کانوں میں شمال کی سمت سے دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز پڑی جس سے وہ سمجھ گیا تھا کہ مسلمانوں کا تعاقب کرنے والے المریہ کے حاکم کے مسلح جوان
اب قریب آچکے ہیں۔
یہ احساس ہوتے ہی اس کا چہرہ آتش کدہ بن کر دہک اٹھا تھا اور پھر اس کے چہرے پر خونی سوچوں کی بکھرتی لکیریں، دیکھتے عزائم کی سکاریاں، سلکتی دھوپ گرم ہوائیں ، ادھیڑتی موسموں کی سختیاں اپنا رنگ جما گئیں تھیں ۔ ایسے ہی سے اس کی دہکتی آگ کی چنگاریوں کی طرح چمکتی خوفناک آنکھوں میں بہت کو نابود کرتی درندگیاں اور لہولہان راستوں پر بین بکھیرتی خون آشامیاں اپنی پوری طاقت اور قوت سے یلغار کرنے لگی تھیں۔
تھوڑی دیر تک رقیم بن خلاط کچھ سوچتا رہا پھر وہ جس چٹان نما پتھر پر بیٹھا ہوا تھا اس پر

(جاری ہے )

-- مزید آگے پہنچایے --