سیمینار میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید ایاز میر کو مہنگی پڑ گئی،نامعلوم افراد کا حملہ، فون اور پرس بھی لے گئے

سیمینار میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید ایاز میر کو مہنگی پڑ گئی،نامعلوم افراد کا حملہ، فون اور پرس بھی لے گئے

لاہور میں سینئر صحافی ایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر حملہ کیا گیا اور ان کا موبائل اور پرس بھی لے گئے۔

نجی ٹی وی سے منسلک سینئر صحافی ایاز امیر نے حملے کے حوالے سے بتایا کہ آج ہم پروگرام کے بعد نکلے تو ایک گاڑی نے بڑے عجیب طریقے سے میری گاڑی کو روکا، ایک آدمی نے کورونا والا ماسک پہن کر ڈرائیور کو جھپٹ لیا، ہم نے کھڑکی کے شیشے نیچے کیے کہ یہ گاڑی ایسے کیوں چلا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس سے تکرار کر رہا تھا کہ تم کون ہو تو دو آدمی میری طرف آئے اور مجھے مارا اور کھینچ کر زمین پر گرا دیا اور وہاں بھی باقاعدہ حملہ کیا گیا کیونکہ یہ سڑک پر رش ہوتا ہے تو وہاں پر لوگ اکٹھا ہو گئے، میرا پرس اور موبائل جو سامنے پڑے ہوئے تھے وہ بھی لے گئے۔

Image

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایاز امیر کی جانب سے ایک سیمینار میں خطاب کے بعد یہ واقعہ پیش آیا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی موجود تھے، اس سیمینار کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جس کا موضوع ‘ رجیم چینج اینڈ اٹس فال آؤٹ آن پاکستان’ تھا۔

ان کی تقریر کے جو حصے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اور سینئر صحافیوں کی جانب سے اس کو شیئر کیا گیا، ان میں ایاز امیر پاکستان میں ملیٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر تنقید کر رہے تھے جبکہ وہ عمران خان کو ان کے دور میں کی گئیں غلطیوں کی بھی نشاہدی کر رہے تھے۔

ایاز امیر پر حملے کی اطلاعات کے فوراً بعد عمران خان نے سینئر صحافی پر پُرتشدد حملے کی شدید مذمت کی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹ میں کہا کہ صحافیوں، اپوزیشن اور شہریوں کے خلاف تشدد اور جعلی ایف آئی آرز کے ساتھ پاکستان بدترین فسطائیت کی طرف جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ریاست اخلاقی اختیار کھو دیتی ہے تو وہ تشدد کرتی ہے۔

-- مزید آگے پہنچایے --