ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے، رانا تنویر حسین

ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے، رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے خریف سیزن سے قبل یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی دستیابی، تقسیم اور قیمتوں کا جامع جائزہ لینے کے لیے فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں صوبائی نمائندگان، اعلیٰ حکام اور کھاد ساز صنعت سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے واضح طور پر یقین دہانی کرائی کہ ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے اور خریف سیزن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وافر مقدار میں ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مسلسل نگرانی اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ خریف سیزن کے دوران یوریا کے خاطر خواہ ذخائر دستیاب رہیں گے اور خریف سیزن کے اختتام تک تقریباً 570,000 ٹن ذخیرہ برقرار رہنے کی توقع ہے۔ اسی طرح ڈی اے پی کے بفر اسٹاک بھی مستحکم رہیں گے اور جولائی کے اختتام تک تقریباً 96,000 ٹن دستیاب ہوں گے، جس سے بوائی کے اہم عرصے میں کھاد کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔

وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کھاد کی مؤثر اور شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ بروقت کسانوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی کمپنی کو ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان نے بروقت حکومتی اقدامات کے ذریعے قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اضافی مالی بوجھ خود برداشت کیا ہے تاکہ قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، مگر پاکستان نے مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے۔ کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ کسان اور عوام مطمئن رہیں کہ زرعی ضروریات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔

اجلاس میں سپلائی چین اور لاجسٹکس کے نظام کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ملک کے تمام علاقوں میں کھاد کی بروقت اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ صوبوں نے موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس کے اختتام پر رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسانوں کی معاونت اور زرعی شعبے کے استحکام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب ذخائر، مؤثر ہم آہنگی اور ہفتہ وار جائزہ اجلاسوں کے تسلسل کے ذریعے پاکستان اپنی زرعی ضروریات کو بغیر کسی رکاوٹ کے پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنی زرعی سرگرمیاں جاری رکھیں، حکومت کھاد کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

-- مزید آگے پہنچایے --