وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خطے میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے عالمی معاشی دباؤ کے پیشِ نظر کفایت شعاری اور بچت پر مبنی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
وہ لاہور میں موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ملکی معاشی صورتحال سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر قابلِ عمل تجاویز آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر پیش کی جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکمت عملی ایسی ہونی چاہیے جس سے عوام پر بوجھ کم سے کم ہو اور عوامی ریلیف کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ ہفتے حالیہ علاقائی کشیدگی کے عالمی معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی، جو اس سلسلے میں حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہ ہو۔
وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو مزید متحرک انداز میں کام کرنے اور عوام کے لیے سادہ اور قابلِ عمل سفارشات جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے وزیرِ خزانہ اور وزیرِ پٹرولیم کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پٹرولیم مصنوعات کے مؤثر استعمال اور عوام کو ان کی بلا تعطل فراہمی کے لیے حکمت عملی تیار کریں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واضح ہدایت کی کہ جو بھی پٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی جائے، اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے، اس کا اجازت نامہ منسوخ کیا جائے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔