فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مذہب کی آڑ میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں مساجد بالخصوص فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا نشانہ بنی رہیں۔
رواں ماہ اسلام آباد کی مسجد پر خودکش حملے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔
دوہزارتئیس میں پولیس لائنز پشاور اور ہنگو میں دو مساجد میں دھماکوں میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
مارچ دوہزار بائیس میں پشاور کی کچہ رسالدار مسجد میں ایک بم دھماکے میں کئی بے گناہ افراد کی جانیں گئیں۔
مارچ دوہزار سترہ میں پاراچنار میں ایک مسجد کے قریب کار بم دھماکے میں کئی شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
ستمبر دوہزار سولہ میں ضلع مہمند میں خودکش حملے میں کئی نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔
جنوری دوہزارپندرہ میں، شکارپور کی ایک مسجد میں ہونیوالے دھماکے میں کئی نمازیوں کی جانیں گئیں۔
فروری دوہزاربارہ میں پاراچنار بازار میں ایک مسجد میں خودکش حملے میں متعدد نمازی شہید ہوئے۔
اسی طرح درہ آدم خیل، ضلع کرم اور کوہاٹ میں مساجد اور امام بارگاہوں میں کئی خودکش دھماکوں میں بھی متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔
ممتاز علمائے کرام کا کہنا ہے کہ مساجد اور عبادت گاہوں میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے کبھی بھی اسلام کے پیروکار نہیں ہو سکتے۔