وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوامی ترقیاتی پروگرام کے اعداد و شمار پر مشتمل نئے معلوماتی مرکز کا افتتاح کر دیا

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوامی ترقیاتی پروگرام کے اعداد و شمار پر مشتمل نئے معلوماتی مرکز کا افتتاح کر دیا

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوامی ترقیاتی پروگرام کے اعداد و شمار پر مشتمل نئے معلوماتی مرکز کا افتتاح کر دیا، جس سے شفاف حکمرانی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ یہ افتتاح آج اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان نظم و نسق فورم دو ہزار چھبیس کے موقع پر کیا گیا۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فی یونٹ بجلی کی قیمت میں تقریباً نو روپے کمی کی گئی ہے، تاہم دو سو ارب روپے مالیت کی بجلی چوری کی روک تھام کے لیے بھی اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیوں کے سدباب کے لیے یوٹیلٹی اسٹورز اور محکمہ تعمیراتِ پاکستان کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہِ رمضان کے دوران ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو اڑتیس ارب روپے کی براہِ راست مالی معاونت برقی بٹوؤں کے ذریعے فراہم کی گئی۔

انہوں نے آئندہ مالی منصوبہ بندی میں براہِ راست محصولات میں کمی پر بھی زور دیا تاکہ کاروباری برادری کو سہولت دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فروختی محصول میں خرد برد کو روکنا ضروری ہے اور حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروباری طبقے کو سہارا دینا ہے۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے اور درجہ بندی کرنے والے ادارے اب پاکستان کی معاشی تبدیلی کو ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مؤثر نظم و نسق اور اصلاحات کے ذریعے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ ان کے مطابق مؤثر حکمرانی حکومت کے ’’اڑان پاکستان‘‘ تبدیلی منصوبے کا مرکزی ستون ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر قوم اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے تو پاکستان سن دو ہزار پینتیس تک ایک ہزار ارب ڈالر معیشت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سیاسی مارچوں کے بجائے ’’معاشی جدوجہد‘‘ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عوامی ترقیاتی پروگرام کا یہ معلوماتی مرکز قومی ترقیاتی شعبے میں جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق کھلے اور شفاف اعداد و شمار فراہم کرے گا، تاکہ عوام خود نگرانی کر سکیں اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

-- مزید آگے پہنچایے --