وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور UN-Habitat نے پاکستانی شہروں کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور پائیدار اقتصادی مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے عملی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں قومی شہری حکمت عملی National Urban Strategy پر خاص توجہ دی گئی۔
وزارت کے ترجمان محمد سلیم شیخ کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹرمصدق ملک سے UN-Habitat کے وفد نے ایشیا و پیسفک کی علاقائی ڈائریکٹر Kazuko Ishigaki کی قیادت میں اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ترجمان کے مطابق ملاقات کا مرکز موسمیاتی طور پر مضبوط شہری ترقی میں تعاون کو فروغ دینا تھا، جس میں پائیدار رہائش، زمین کی بہتر منصوبہ بندی اور غیر رسمی بستیوں کی اپ گریڈنگ شامل تھی۔ دونوں فریقین نے شہروں کو سیلاب، خشک سالی اور ہیٹ ویوز سے محفوظ بنانے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران مس اشیگا کی نے وفاقی وزیر کو UN-Habitat کے 2029۔2026 کے سٹریٹجک پلان سے تفصیلی آگاہی دی، جو رہائش، زمین اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو ترجیح دیتا ہے اور موسمیاتی موافقت اور استحکام کو مضبوطی سے شامل کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی مدد کرنے کے عزم کااعادہ کیا تاکہ شہری سیلاب، خشک سالی کے اثرات اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے شہری چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تیز رفتار شہری آبادکاری، ناکافی نکاسی آب و سیوریج نظام، آلودہ پانی، تجاوزات، رہائشی کمی اور ضابطہ کاری کے نفاذ میں کمزوری اہم مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناقص شہری ڈیزائن اور غیر مربوط منصوبہ بندی ان مسائل کی جڑ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک مخصوص اور قابل عمل قومی شہری حکمت عملی کی ضرورت ہے، اور حکومت نے ایڈاپٹیشن فنڈ کے تحت جاری قومی شہری حکمت عملی کے منصوبے کو فعال بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔