وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان کی معدنی برآمدات اس دہائی کے دوران سالانہ چھ سے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اسلام آباد میں پاک–چین معدنی تعاون فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف محض خام معدنیات نکالنے تک محدود نہیں بلکہ معدنی پروسیسنگ پلانٹس، اسمیلٹرز، ریفائننگ سہولیات اور خصوصی اقتصادی زونز سے منسلک معدنی صنعتی کلسٹرز کا قیام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معدنی معیشت کی تبدیلی اسٹریٹجک شراکت داروں کے بغیر ممکن نہیں اور اس ضمن میں چین کا کردار کلیدی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق پاک–چین معدنی تعاون کا مستقبل ٹیکنالوجی، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے مشترکہ قدر کی تخلیق میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے ساتھ ہم معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں بدل سکتے ہیں۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان ایسے مشترکہ منصوبے چاہتا ہے جو نہ صرف ملکی ضروریات پوری کریں بلکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں کو بھی ہدف بنائیں۔
انہوں نے چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو قومی ترجیح قرار دیا۔
احسن اقبال نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرحلہ رابطہ کاری کو پیداوار، پیداوار کو برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی میں بدلنے کا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کو زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں جدید بنانے میں مدد دے گا تاکہ ملک برآمدات پر مبنی ترقی کا ماڈل بن سکے۔