احسن اقبال کی کیئرک تعاون کے فروغ کے لیے علاقائی علمی مرکز کے قیام کی تجویز

20

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کیئرک انسٹی ٹیوٹ کو ایک قابلِ اعتماد علاقائی علمی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے، جو رکن ممالک کے تجربات، تحقیق اور معلومات کو باہم مربوط کرکے مشترکہ معاشی اور ترقیاتی چیلنجز کے عملی حل میں معاون ثابت ہو۔

اولان باتور میں کیئرک انسٹی ٹیوٹ کے گورننس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران سڑکوں، ریلوے، توانائی کے رابطوں اور تجارتی راہداریوں کے قیام کے بعد علاقائی تعاون کے اگلے مرحلے میں اشیا اور توانائی کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ علم، تجربات اور مہارتوں کے تبادلے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

انہوں نے ایک فعال علاقائی علمی پلیٹ فارم اور ماہرین کی فہرست قائم کرنے کی تجویز دی، جس میں علاقائی اعداد و شمار، پالیسی ذرائع، منصوبوں کے جائزے اور عملی تجربات یکجا کیے جائیں، تاکہ پالیسی ساز دیگر ممالک کے کامیاب تجربات سے بروقت استفادہ کرکے انہیں اپنے حالات کے مطابق اختیار کرسکیں۔

وفاقی وزیر نے کیئرک رکن ممالک کے درمیان باہمی تجربات کے تبادلے کا ایک باقاعدہ نظام قائم کرنے کی بھی تجویز دی، جس کے ذریعے یکساں نوعیت کے مسائل پر کام کرنے والے حکام ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے تجارت میں سہولت، کسٹمز کے نظام، رسد و ترسیل، قابلِ تجدید توانائی، قدرتی آفات سے نمٹنے، زراعت اور ہنرمندی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ کیئرک انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیاں رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہئیں، پالیسی سازی سے براہِ راست منسلک ہوں اور ان کی کامیابی کا پیمانہ محض رپورٹس اور اجلاس نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج اور اثرات ہونے چاہئیں۔

انہوں نے سرحدی انتظام، باہم مربوط ڈیجیٹل تجارتی نظام اور موسمیاتی خطرات سے متعلق مشترکہ معلومات کے تبادلے میں علاقائی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر حل بھی مشترکہ علاقائی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے 2027 میں کیئرک کی صدارت سنبھالنے کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اپنے دورِ صدارت کے ایجنڈے میں علم اور تجربات کے تبادلے کو مرکزی حیثیت دے گا اور رکن ممالک، کیئرک انسٹی ٹیوٹ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اقتصادی راہداریوں، تجارتی سہولت کاری، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھائے گا۔

انہوں نے علاقائی باہمی تجربات کے تبادلے کے لیے پاکستان سنگل ونڈو کے تجربے کو ایک مؤثر مثال کے طور پر پیش کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ پاکستان کی جامعات اور تحقیقی اداروں کو بھی کیئرک کے علاقائی علمی نیٹ ورک کا حصہ بننے کی ترغیب دی جائے گی۔
احسن اقبال نے کہا، کیئرک کے پہلے 25 برسوں نے دکھایا کہ ہم مل کر کیا تعمیر کرسکتے ہیں، اگلے 25 برس یہ ثابت کریں کہ ہم مل کر کیا سیکھ سکتے ہیں اور یہ مشترکہ علم ہمیں کیا حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ کیئرک انسٹی ٹیوٹ کو محض علم اور تحقیق کے مرکز تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے علاقائی مرکز کے طور پر آگے بڑھایا جائے جو علم و تجربات کو جمع کرے، ان کی جانچ کرے، انہیں باہم شریک کرے اور عملی اقدامات میں بروئے کار لائے، تاکہ رکن ممالک تحقیق اور شواہد کو مؤثر پالیسی اور علاقائی اقدامات میں تبدیل کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں