قبلہ رو سجدہ ریز ہو گیا ۔ پھر وہ انتہائی عاجزی اور انکساری میں گڑگڑاتے ہوئے اپنے خدا وند کے حضور دعا مانگ رہا تھا۔ اے خداوند بے نیاز وصحہ ۔ اس کائنات میں خون کی حدت ۔ گیت گاتے طیور ۔ کوہستانی ہواؤں کے جھکڑ کانوں میں گنگناتے ہوئے پرندوں کے پرے سب تیرے ہی کن کے دم سے
ہیں ۔
اسے کائنات کے خالق بے نیاز ۔ تو ہی صدیوں پرانے راستوں پر شوخ صبحوں کا نزول کرتا ہے تو ہی اندھے کو ہستانوں پر چیل کے عکس گراتا ہے۔ اے میرے مالک تیرے اسم کی لے ضو سے ہی میری سوچیں جھلملاتی ہیں۔ اے میرے آقا تیری ذات ہی کے بھروسے میں سرگرداں بے سمت بھکتے مسافروں جیسا انسان اپنے دشمنوں کے سامنے چھاتی تان کر کھڑا ہو
جاتا ہوں۔
میرے اللہ ۔ میرے مالک ویران موسموں کی ان سرزمینوں میں تو سرکش ہواؤں جیسے دشمنوں کے ساتھ میری مدد فرما۔ اے اللہ میں ان پتھریلی مسافتوں میں اکیلے مسافر جیسا ہوں۔ میں تیری اعانت ، تیری نصرت کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ تو ہی روشنی کی بے سمتی کو سمت عطا کرتا ہے۔ اے اللہ تو مجھے بھی اسم محمد کے طفیل اپنی مدد اپنی نصرت سے نواز ۔”
یہاں تک دعا مانگنے کے بعد رقیم بن خلاط سجدے سے اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ پھر اپنی سمت بیٹھے ساتھیوں اور سامنے والے اپنے لشکر کے حصے کو اس نے ہاتھ کے اشارے سے تیار رہنے کا حکم دے دیا تھا ۔ اس لئے کہ شاہراہ پر مسلمانوں کا تعاقب کرنے والے نزدیک آسکے تھے اور ان کے گھوڑوں کی ہنہنا نہیں اور نتھنے پھڑ پھڑانے تک کی آواز میں صاف سنائی دینے لگی تھیں۔ پھر تھوڑی ہی دیر بعد دو ہزار کے لگ بھگ امریہ کے حاکم کا لشکر اس شاہراہ پر نمودار ہوا ۔ جب وہ لشکر اپنے گھوڑوں کو دوڑاتا ہوا رقیم بن خلاط کے لشکر کے دونوں حصوں کے عین درمیان میں آیا۔ تب رقیم بن خلاط کے سامنے والے لشکریوں نے سواروں پر تیز تیر اندازی کر دی تھی۔ بس اس تیر اندازی کا شروع ہونا تھا کہ تعاقب کرنے والوں میں ایک افرا تفری شور کوک، واویلا اور رولانچ کے رہ گیا تھا۔ ایسے میں رقیم بن خلاط اپنے حصے کے لشکر کے ساتھ کو ہستانی سلسلے سے اس طرح نکلا جیسے صد ہزار سالوں سے مقید نور کے لمحے ، انکشاف روح حیات سے در د نجات کی طرح نکلتے ہیں۔ پھر وہ بیتی صدیوں کے موہوم آوازوں میں ساعی کے عمل کی طرح آگے بڑھا اور جس طرح انسانی ذہن و دل کے دریچوں اور سرحدوں پر شعر و نغمات نزول کرتے ہیں ایسے ہی وہ دشمن پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بڑی تیزی سے دشمنوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بڑی تیزی سے