حکومت نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز

27

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں معاشی ترقی، دفاع، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اصلاحات اور عوامی ریلیف کے متعدد اقدامات شامل ہیں۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی توجہ معیشت کو مستحکم بنانے اور پائیدار ترقی کے حصول پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1,901 ڈالر ہو گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو اور 8.2 فیصد اوسط افراطِ زر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 41 ارب ڈالر سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

بجٹ میں قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے ایک ہزار ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ٹیکس اصلاحات کے تحت تنخواہ دار طبقے کے مختلف آمدنی سلیبس میں ریلیف، 9 فیصد سرچارج کے خاتمے، جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس رعایتوں کی تجویز دی گئی ہے۔

چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے تحت 20 کروڑ روپے سے کم سالانہ فروخت رکھنے والے دکاندار اپنی سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔

بجٹ میں خواتین کی صحت سے متعلق اشیا، بشمول سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس رعایت مزید تین سال جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جن میں کراچی۔چمن این-25 شاہراہ کی اپ گریڈیشن، سکھر۔حیدرآباد موٹروے، ایم ایل-1 ریلوے منصوبہ، آبی ذخائر، پن بجلی منصوبے، قابلِ تجدید توانائی، سستے رہائشی منصوبے، صحت، تعلیم اور شہری ترقی شامل ہیں۔

سماجی تحفظ کے پروگرام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

فنانس بل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو رقم اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے وقت کاٹی جائے گی۔

بجٹ تجاویز اب پارلیمنٹ میں بحث اور منظوری کے مراحل سے گزریں گی، جس کے بعد نئے مالی سال میں ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں