بات سیدھی ہے: پاکستان پہلے، باقی سب بعد میں

بات سیدھی ہے: پاکستان پہلے، باقی سب بعد میں

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شیعہ علما کو بٹھا کر نہایت سادہ اردو میں سمجھایا “آپ سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ باہر کی لڑائی یہاں مت لائیں۔ اگر دل زیادہ ہی ایران ایران کرتا ہے تو وہاں روانہ ہو جائیں۔”

پاکستان میں اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ ریاست کا کوئی واضح بیانیہ نہیں ہوتا۔ کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی خاموشی، کبھی اچانک ایکشن۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ ریاست نے اپنی پوزیشن کچھ زیادہ صاف انداز میں بیان کر دی ہے کہ پاکستان پہلے باقی سب بعد میں۔ بات انتہائی سادہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بیرونی تنازعے کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہو یا کوئی اور عالمی کشمکش۔

اس بیان پر بعض شیعہ علماء کی ناراضگی سامنے آئی۔ لیکن اگر پچھلے کچھ عرصے کا جائزہ لیا جائے تو ناراضگی ہونی نہیں چاہئیے تھی۔ ٹی ایل پی کے خلاف سخت کارروائیاں ہوں یا کالعدم تنظیموں کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن یا پھر طالبان کے سیاسی و مذہبی سہولت کاروں پر شکنجہ۔ سسٹم نے یہ واضح کیا ہے کہ ریڈ لائن صرف پاکستان ہے اور سڑکوں پر کسی فریق کو دنگا فساد کی اجازت نہیں۔ پیغام سیدھا ہے اور سب کے لیے یکساں ہے۔ پورا سسٹم اپڈیٹ ہو چکا ہے۔ ناراض علما سے گزارش ہے جب پورا سسٹم اپڈیٹ ہو چکا ہے اور صورتحال واضح آپ کے سامنے ہے تو آپ اپنا پرانا سافٹ ویئر لے کر کیوں بیٹھے ہیں؟

کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور گلگت بلتستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد یہ “میٹنگ” ہونا ہی تھی۔ پیغام بڑا سیدھا ہے کہ جذبات آپ کا ذاتی مسئلہ ہے مگر امن و امان ریاستی مسئلہ ہے۔ ریاست کا ون لائنر میں یوں بیان کیے دیتا ہوں “بات مان لو، ورنہ منوا لی جائے گی”۔ یہ عرض بھی ہے اور پالیسی سٹیٹمنٹ بھی۔

-- مزید آگے پہنچایے --