بچوں کی سرگرمیاں آن لائن شیئر کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے: کیسپرسکی

بچوں کی سرگرمیاں آن لائن شیئر کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے: کیسپرسکی

 کیسپرسکی کے سروے“گروئنگ اپ آن لائن”کے مطابق تقریباً 48 فیصد والدین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے اپنے بچوں کی تصاویر، ویڈیوز یا ان سے متعلق اپڈیٹس شیئر کرتے ہیں۔ جو والدین اپنے بچوں کے بارے میں پوسٹ کرتے ہیں ان میں سے 72 فیصد اپنی پوسٹوں کی رسائی صرف دوستوں، دوستوں کے دوستوں یا فالوورز تک محدود رکھتے ہیں۔ تاہم سروے میں شامل 28 فیصد والدین کے اکاؤنٹس مکمل طور پر پبلک ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ مواد انٹرنیٹ پر کسی کے لیے بھی قابلِ رسائی ہو جاتا ہے۔

والدین کی جانب سے بچوں سے متعلق مواد شیئر کرنے کی سب سے بڑی وجہ یادیں محفوظ کرنا ہے ، جبکہ 42 فیصد اپنے بچوں کی کامیابیوں پر فخر کے اظہار کے لیے پوسٹ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی اثرات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں: 21 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ اس لیے پوسٹ کرتے ہیں کیونکہ دوسرے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں، جبکہ 20 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں تصاویر یا ویڈیوز میں اپنی شکل پسند آتی ہے۔ مزید برآں 10 فیصد والدین نے تسلیم کیا کہ وہ زیادہ فالوورز حاصل کرنے یا زیادہ لائکس اور ریچکے لیے بچوں سے متعلق مواد شیئر کرتے ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 59 فیصد والدین کا کہنا ہے کہ وہ بچوں سے متعلق مواد شائع کرنے سے پہلے ان سے اجازت لیتے ہیں۔ تاہم ہر پانچ میں سے ایک والدین نے اعتراف کیا کہ وہ بچے کی رضامندی نہ ہونے کے باوجود بھی پوسٹ کر دیتے ہیں۔

کیسپرسکی میں مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ کے لیے کنزیومر چینل کے سربراہ سیف اللہ جیدیڈی کے مطابق والدین کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے کہ بے ضرر شیئرنگ اور ایسے مواد میں کیا فرق ہے جو غیر ارادی طور پر بچے کی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔ آج جو ایک فخر کا لمحہ خاندانی لمحہ محسوس ہوتا ہے وہ کل ایک مستقل ڈیجیٹل شناخت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ پوسٹ کرنے سے پہلے لمحہ بھر رک کر سوچا جائے، خاص طور پر جب مقصد صرف مقبولیت یا زیادہ توجہ حاصل کرنا ہو۔ آن لائن توجہ عارضی ہوتی ہے مگر اس کے خطرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔

جب والدین بچوں کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات آن لائن شیئر کرتے ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر حساس معلومات جیسے مکمل نام، تاریخِ پیدائش، اسکول کا مقام یا روزمرہ معمولات بھی ظاہر کر سکتے ہیں۔ ایسی معلومات شناخت کی چوری، سوشل انجینئرنگ، دھوکہ دہی یا حتیٰ کہ جسمانی سلامتی کے خطرات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ عوامی طور پر دستیاب تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال، ترمیم یا بغیر اجازت دوبارہ شیئر بھی کیا جا سکتا ہے، جس سے طویل مدتی ڈیجیٹل ریکارڈ اور شہرت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور محفوظ شیئرنگ کے لیے کیسپرسکی مشورہ دیتا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی رسائی محدود رکھیں اور انہیں صرف دوستوں تک محدود کریں اور دوستوں کی فہرست میں صرف انہی افراد کو شامل کریں جنہیں آپ ذاتی طور پر جانتے ہوں۔ کیسپرسکی پریمیئم جیسے قابلِ اعتماد سیکیورٹی حل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، جس میں سیف کڈزماڈیول شامل ہے جو خاندان اور نجی ڈیٹا کے تحفظ کے ساتھ بچوں کو آن لائن اور آف لائن خطرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے

-- مزید آگے پہنچایے --