پاکستان کی بہادر دفاعی افواج نے بروقت اور نہایت درست کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا اور افغانستان میں موجود ان کے رسد و معاونت کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
دفترِ خارجہ نے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں افغان سرزمین سے ہونے والے فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندستان کی جانب سے پاکستان پر بار بار ہونے والے دہشت گرد حملوں، نیز گزشتہ رات افغان طالبان حکومت کی بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے ردِعمل میں کی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ اور خطے کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اگر افغان طالبان حکومت کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی کی گئی یا کسی بھی دہشت گرد گروہ نے پاکستان کے عوام کی سلامتی اور فلاح کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے نپا تلا، فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں صبر و تحمل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم افسوس کہ پاکستان کے خیرسگالی کے متعدد اقدامات اور ذمہ دارانہ طرزِعمل کو غلط سمجھا گیا، جس کے نتیجے میں افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا، جنہیں افغان طالبان حکومت اور بھارت کی پشت پناہی حاصل رہی۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرے گا اور افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فتنۂ خوارج اور فتنۂ ہندستان کو کھلی چھوٹ دینے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔
دفترِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور افغان طالبان حکومت کو واضح پیغام دے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کی اپنی ذمہ داری سے روگردانی نہ کرے اور ان کی ہر قسم کی حمایت ختم کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان عالمی قانون کے مطابق، بشمول اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت، اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔