وادیٔ تیراہ کے مسئلے پر قبائلی جرگہ، متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اعلان

وادیٔ تیراہ کے مسئلے پر قبائلی جرگہ، متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اعلان

وادیٔ تیراہ کے مسئلے پر منعقد ہونے والے ایک اہم قبائلی جرگے میں قبائلی عمائدین نے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے تمام متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی، ہمدردی اور بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے۔

یہ جرگہ باڑہ پولیٹیکل الائنس کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں قومی جرگے کا ایجنڈا باڑہ پولیٹیکل الائنس کے سابق چیئرمین حاجی شیرین آفریدی نے پیش کیا۔

جرگے کے شرکاء نے کھل کر امن کے حق میں آواز بلند کی۔ جرگہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وادیٔ تیراہ کے متاثرین کے مسائل کسی ایک علاقے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادیٔ تیراہ کے بے گھر افراد کے مسائل کے حل میں مزید تاخیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

قبائلی عمائدین نے متاثرینِ وادیٔ تیراہ کے لیے مختص فنڈز میں صوبائی حکومت کی نااہلی اور کرپشن پر شدید تنقید کی۔

جرگے کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وادیٔ تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح اور یقینی ضمانت دی جائے۔

قبائلی عمائدین نے کہا کہ وادیٔ تیراہ میں خوارج کی جانب سے فائرنگ، گولہ باری، مارٹر حملے، گھروں کو نشانہ بنانے اور کواڈ کاپٹر گرانے کے واقعات فوری طور پر بند کیے جائیں کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔

انہوں نے متاثرینِ وادیٔ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری اور عملی شکل دی جائے۔

جرگے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کی گاڑیوں کی بقایا رقوم فوری طور پر ادا کی جائیں، بصورتِ دیگر تمام گاڑیاں احتجاجی جلوس کی صورت میں پشاور لائی جائیں گی اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا کہ متاثرینِ وادیٔ تیراہ کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

-- مزید آگے پہنچایے --