وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی حقیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک 2026 سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 میں منظور کی گئی قومی اے آئی پالیسی پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا محض صارف نہیں بلکہ ایک نمایاں پیداوار کنندہ ملک بنانے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے اے آئی کے فروغ کے لیے اے آئی انیبلمنٹ فنڈ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ اے آئی انوویشن ایکو سسٹم اور بنیادی ڈھانچے کے قیام کے ساتھ ساتھ آگاہی کے فروغ پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت نجی شعبے کو بااختیار بنایا جائے گا تاکہ مختلف منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔ ان منصوبوں میں ایک ملین افراد کی تربیت، سالانہ تین ہزار اے آئی اسکالرشپس، اور پچاس اے آئی سول منصوبے شامل ہیں۔شزا فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ چند ماہ میں ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی سروسز متعارف کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔