پاکستان کی سالمیت کی جنگ کسی کی ذات سے بڑی نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کی سالمیت کی جنگ کسی کی ذات سے بڑی نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت سےکوئی ایشونہیں ہے، سیاست،سیاسی جماعتوں کا کام ہےوہ بحران کا حل نکالیں۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کے لیے ساز گار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے لیے موافق سیاسی فضا موجود ہے، خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے جس کی وجہ سے 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اوربلوچیت سے کوئی تعلق نہیں، فوج، پولیس،ایف سی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے، 14ہزار 658 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے، 58 ہزار 778 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ سال 2597دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں، پچھلے سال 27خودکش واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16،بلوچستان 10اورایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا، 3ہزار811 دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، 2021سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات ہوئے، بنوں کینٹ،جعفرایکسپریس،نوشکی میں سول بس اور خضدار میں سکول بس کو نشانہ بنایا گیا، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز، ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ، پولیس ٹریننگ سکول ڈی آئی خان، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور میں دوبارہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے 10دہشتگردی کے واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے، حملہ کرنے والا ہر افغانی مارا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025 میں دہشت گردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کے کسی شہری یا انفراسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ فوج کی جنگ ہے، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے سکولوں، بازاروں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایاجاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے ۔

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ریاست دہشت گردی کےخاتمےکےلیےپرعزم ہے، دہشت گردوں کےخلاف ہرطریقےسےلڑیں گے، ہم نےجنازے اٹھائےہیں ہم ان کوجہنم واصل کریں گے، دہشت گردوں کےسہولت کاروں کے آخری کونے تک جائیں گے، فتنہ الخوراج کےمراکزافغانستان میں ہے،ریاست اپنےایک ایک بچے،شہری کا تحفظ کررہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے، کسی کی ذات پاکستان سےبڑی نہیں ہے، جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونےدیں گے کیا ان کی شخصیت ملک سے بڑھ کر ہے؟وانا میں معصوم بچوں پرحملہ ہوا،پولیس،ایف سی،سویلین کیا صوبےمیں شہید نہیں ہورہے؟کہتےہیں کابل سےسکیورٹی کی بھیک مانگیں گے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کسی کی سیاست پاکستان سے بڑھ کر نہیں،حکومتیں بااختیار ہوتی ہے، ادارے بااختیار نہیں جس طرح ہونے چاہئیں جو ابھی بھی کہتے ہیں بات چیت سے مسئلے حل کریں ان سے پوچھیں طالبان سے کیا محبت ہے، ہمارا کام دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی قوم کےسامنےلانا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت ہے کہ اَن سے کوئی بات چیت نہیں کرنی، ہماری طرف سےکلیریٹی ہے، یہ خوراج ہیں اِن سےلڑنا ہے، اَن کو کوئی سپیس نہیں دینی، دہشتگردوں کا کوئی ایمان نہیں، ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے، ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نےافغان طالبان سے2021سےبارہا مذاکرات کیے،کابل میں افغان طالبان کا ہی رول ہے،دوطرفہ بات چیت سےکوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمارے نزدیک دہشت گرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ماضی میں وزیراعظم نے اُس وقت کے آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کیا، یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بےاختیار تھے، ایک لیڈر اپنی جماعت کو ایک آمرکی طرح چلاتا رہا، وہ شخص کہتا ہے میں بےاختیار تھا، ہم تو سمجھتے ہیں قوم کا ایک ہی باپ قائداعظم محمدعلی جناح ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوسیاست کیلئےاستعمال کیا گیا، ہمارے لیےتمام سیاسی جماعتیں،صوبےبرابرہیں، آئین اورقانون ملک کےعوام کوتحفظ فراہم کرتا ہے، بارڈر بندش کے فوائد نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ توکہتےہیں آپریشن نہیں ہونےدیں گے، سکیورٹی ہیبت اللہ سے لیں گے، کوئی مذاق ہے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کےحوالےکردیں، ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے پر فخر ہے، اگر ملک میں سکیورٹی ہو گی تو کاروبار ہو گا، جان ہے تو جہان ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر خیبرپختونخوا میں ترقی نہیں ہو گی، جو حکومت ہوتی ہے وہی ریاست ہوتی ہے اُس نے پورے ملک کو لیکر چلنا ہوتا ہے، معاملات کا حل اُن کے پاس ہے، حکومت کے ساتھ باقی ادارے مکمل ہم آہنگی کےساتھ چل رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ جو سیاسی ایشو ہے اُس کو سیاست دان بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، پاکستان کی معیشت افغانستان سے نہیں جڑی ہوئی، اُن کے کہنے پر کیا پاکستان اپنی فوج بارڈر سے اٹھا دے؟ افغانستان میں افغان عوام بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانیوں کوخود فیصلہ کرنا ہےکہ قابض گروپ کےساتھ کیسےڈیل کریں، ہم پاکستان کی سکیورٹی اوربارڈرکےذمہ دارہیں، سیکورٹی فورسزکا کام علاقوں کودہشت گردوں سےکلیئرکرانا ہے،آپ کےسامنےسوات کا ماڈل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نےبہت سارےعلاقوں کو کلیئ رکیا پھر دوبارہ شہادتیں دیں، اِس سال 2500 دہشت گرد مارے گئے، ملٹری، سیاسی لیڈر شپ میں بالکل کلیریٹی ہے، دہشت گردوں نے دائیں، بائیں یا اکٹھے آنا ہے براہِ راست آنا ہے جسے مرضی آجائیں، ایک بار مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جس سیاسی جماعت نےبات کرنی ہے حکومت سے کرے، ہمارا کام سیاسی جماعتوں سےبات کرنا نہیں، ہمیں کسی سیاسی جماعت سےکوئی ایشونہیں ہے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ کوئی حل نکالیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا کودہشت گردی کےفروغ کے لیےبھی استعمال کیا جاتا ہے، ریاست نےسوشل میڈیا کےخلاف کچھ اچھےقوانین بنائےہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کا بھی مسئلہ ہے، بلوچستان حکومت نےضلعی، تحصیل لیول پر پیسےکو منتقل کیا۔

ترجمان پاک فوج کا خیبرپختونخوا سےمتعلق سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا کہ پیسےکی کمی نہیں ہے، اللہ تھوڑے پیسے میں بھی برکت ڈال دیتا ہے، پیسہ عوام پر لگایا جائے تو مسائل حل ہو جائیں گے، عوام کوبیانیہ میں الجھانےاور کنفوژن میں ڈالنےکے بجائےمسائل حل کریں۔

-- مزید آگے پہنچایے --