پاکستانی طبی کارکن چین میں روایتی چینی طب سیکھنے میں مصروف عمل

پاکستانی طبی کارکن چین میں روایتی چینی طب سیکھنے میں مصروف عمل

 چین کے وسطی صوبہ ہونان میں ہونان یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن کے فرسٹ اسپتال کے شعبہ روایتی چینی طب برائے آرتھوپیڈکس اور ٹراماٹولوجی کے ڈاکٹر گونگ ژی شیان 6 پاکستانی طبی کارکنوں کو روایتی چینی طریقوں سے فریکچر کی پٹی باندھنے کی تکنیک سکھا رہے ہیں۔
ایک تربیت حاصل کرنے والے شخص دبیراحمد خان نے اپنی مرضی سے زخمی مریض کا کردار ادا کیا تاکہ ڈاکٹر گونگ کے عملی مظاہرے میں مدد فراہم کر سکے۔
یہ پاکستان روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) پریکٹیشنر ٹریننگ پروگرام ہے جو 11 اگست سے شروع ہوا۔اس پروگرام کو مجموعی طور پر ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن کے ادارہ چائنہ-پاکستان روایتی طب مرکز کے تحت منظم کیا جا رہا ہے۔ ان کورسز میں متعدد روایتی چینی طریقہ علاج شامل ہیں جنہیں ہونان یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن اور اس کے منسلک اسپتال میں پڑھایا جا رہا ہے۔
اس اسپتال کا ایک وارڈ آ کو پنکچر، توئینا اور بحالی صحت کا مرکز ہے، ڈاکٹر لو بیدان ایک مریض کی بحالی کے لیے اس کے آکو پوائنٹ میں باریک دھاتی سوئی چبھو رہی ہیں۔ 6 پاکستانی تربیت حاصل کرنے والے افراد نے اس علاج کے مکمل عمل کا مشاہدہ کیا۔
تربیتی شرکاء میں سے ایک، رخسانہ پروین نے چین آنے سے پہلے روایتی چینی طب جیسے آکو پنکچر اور جڑی بوٹیوں سے علاج کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر رکھی تھیں لیکن وہ اس علم کا گہرائی سے اور منظم طریقے سے مطالعہ نہیں کر سکی تھیں۔
انہوں نے کہا اسی لیے میں یہاں آئی ہوں تاکہ اس علم کو براہ راست سیکھوں، یہاں اس پر ہزاروں سالوں سے عمل کیا جا رہا ہے۔
چند دن کی تربیت کے بعد، ڈاکٹر لو نے شِنہوا کو بتایا کہ طلبا آ کو پنکچر میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے سیکھنے کے لیے پُرجوش ہیں لیکن ان کے لیے سب سے پہلے بنیادی نظریات کو سیکھنا ضروری ہے، تاکہ وہ مریضوں کا علاج محفوظ طریقے سے کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی منصوبے کے مطابق طلبا عام روایتی چینی تشخیص اور علاج کو منظم انداز میں سیکھیں گے جس کا طریقہ ایک ماہ کی بہترین مشق اور اس کے بعد پانچ ماہ کی کلینیکل روٹیشنز پر مشتمل ہوگا۔
دبیراحمد خان نے کہا میں چاہتا ہوں کہ جو روایتی چینی طبی تکنیکیں میں نے چین میں سیکھی ہیں، انہیں پاکستان لے جاؤں، اپنے ساتھیوں کو متعارف کراؤں اور علاج میں استعمال کروں۔
حالیہ برسوں میں، چین اور پاکستان کے درمیان روایتی طب میں دو طرفہ تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا سبب چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی ہے۔
چائنہ-پا کستان روایتی طب مرکز کو ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن اور جامعہ کراچی نے دسمبر 2020 میں مشترکہ طور پر قائم کیا جو کہ قومی انتظامیہ روایتی چینی طب کی منظوری اور حمایت سے ایک بین الاقوامی تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔
چائنہ-پاکستان روایتی طب مرکز کے چینی ڈائریکٹر اور ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن کے پرنسپل ہی چھِنگ ہو نے کہا کہ پاکستان ٹی سی ایم پریکٹیشنر ٹریننگ پروگرام چائنہ-پاکستان روایتی طب مرکز کی طرف سے روایتی طبی ماہرین کی تیاری میں ایک ابتدائی کوشش ہے۔

-- مزید آگے پہنچایے --