چینی پھل ایس سی او ممالک کے صارفین میں مقبول

چینی پھل ایس سی او ممالک کے صارفین میں مقبول

میٹھے خربوزوں سے لے کر رسیلے کیوی تک چینی پیداوار تیزی سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں گھرانوں کی پسندیدہ انتخاب بنتی جا رہی ہے۔

مقامی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے شمال مغرب سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے اور ایس سی او ممالک کے درمیان ایک اہم زمینی تجارتی بندرگاہ ہورگوس نے رواں سال کے ابتدائی 7 ماہ میں 3 لاکھ 29 ہزار ٹن پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات برآمد کئے جو گزشتہ سال کی نسبت 37.1 فیصد زائد ہیں۔

ہر روز زرعی اجناس کے لئے مختص چین-قازقستان گرین لین کے ذریعے ریفریجریٹڈ ٹرکوں کی طویل قطاریں ہورگوس بندرگاہ سے گزرتی ہیں۔ اس تیز تر کسٹمز چینل کے ذریعے اجناس 24 گھنٹے کے اندر کلیئر ہو جاتی ہیں۔

ہورگوس میں قائم جن یی گروپ کے چیئرمین یو چھنگ ژونگ کے مطابق ان کی کمپنی نے اس سال وسطی ایشیا اور روس میں 50 ہزار ٹن پھلوں کی فروخت کے معاہدے کئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم اب یومیہ 50 سے زائد ٹرک یا ایک ہزار ٹن سے زائد پھل اور سبزیاں برآمد کرتے ہیں۔ جنوری سے جولائی تک ان کی کمپنی نے ایک لاکھ 50 ہزار ٹن پھل اور سبزیاں برآمد کیں جن کی تجارتی مالیت ایک ارب 80 کروڑ یوآن (تقریباً 25کروڑ 34 لاکھ امریکی ڈالر) سے تجاوز کرگئی۔

مقامی کسان شو ژی چھن نے فخر سے کہا کہ اعلیٰ معیار کے پھل اگانا اور انہیں بیرون ملک بکتے دیکھنا میرے لئے باعث فخر ہے۔ ہم حالیہ دنوں میں روزانہ پھل توڑنے اور پیک کرنے میں مصروف ہیں تاکہ قازقستان کو برآمدات کے لئے تیار ہوسکیں۔

شو نے مزید کہا کہ برآمدی آرڈرز میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ اگست مقامی پھلوں کی کٹائی کا عروج کا موسم ہے۔

ایس سی او ممالک میں بڑھتی ہوئی خریداری کی طاقت اور مختلف اقسام کی زرعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی طلب چینی پھلوں کی درآمد میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ جیسے جیسے وسطی ایشیا میں نقل و حمل کی سہولتوں اور کولڈ چین ترسیل میں بہتری آ رہی ہے ویسے ویسے چینی پھلوں کی مانگ بلند رہنے کی توقع ہے۔

-- مزید آگے پہنچایے --