گرین سٹی سے ہاوسنگ سوسائٹیز کے کاروبار میں تبدیل ہوتا اسلام آباد مشکلات کا شکار

گرین سٹی سے ہاوسنگ سوسائٹیز کے کاروبار میں تبدیل ہوتا اسلام آباد مشکلات کا شکار

صباحت خان

     1960  ء میں اسلام آباد کو وفاقی دارلحکومت کے لیے منتحب کیا گیا جس کی بڑٰی وجہ  سابقہ دار الحکومت کراچی میں معیشت اور دیگر معاملات  تیزی سے ترقی کر رہے تھے ، حکومتی معاملات کو ایک ایسے جگہ منتقل کیا جانے کی ضرورت محسوس کی گئی   جہاں پر رش و بھیڑ اور آلودگی و فسادات کم ہو تاکہ حکومت کو صحیح طور پر سنبھالا جا سکے۔ اسلام آباد قدرتی حسن سے مالا مال علاقہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ  کسی دور میں اسلام آباد کو  شین چمن بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب سرسبز و شاداب چمن (باغ سا) ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ اسلام آباد کی  خوبصورتی کو دنیا میں بھی مقبولیت حاصل ہے مگر پچھلے کچھ عرصے سے دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار پاکستان کا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد بڑھتی آبادی کے مسائل سے دوچار ہو رہا ہے ۔مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے رہائشی مسائل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت مختلف سرکاری اور نجی طور پر بھی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قیام عمل میں لارہی ہے ۔ اسلام آباد کے تمام تر معاملات کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تحت عمل میں لائے جاتے ہیں اس لیے ہرہاوسنگ سوسائٹیز کو این او سی بھی سی ڈی اے کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے ۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کی ویب سائٹ پر موجودہ ( 2022 )  ڈیٹا کے مطابق59 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منظوری دے کر انہیں قانونی قرار دیا گیا ہے ۔ سی ڈی اے ویب سائٹ پر فراہم معلومات کے مطابق ان ہاؤسنگ سکیموں نے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ ان قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ناموں کی لسٹ بھی جاری کی گئی تھی۔جن میں قابل ذکر اے جی او ایچ ایس۲، الحمرا ایونیو، ، المکہ سٹی،آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ، بحریہ ٹاون ، کیپٹل انکلیو، سی بی آر ٹاؤن، انجینئرز کوآپریٹیو انجینئرز ہاؤسنگ اسکیم،گریس ویلی، گلبرگ ہاؤسنگ سکیم، اسلام آباد گارڈنز، اسلام آباد ماڈل ٹاؤن، جدہ ٹاؤن، جناح گارڈن،پاکستان میڈیکل کوآپریٹو ہاؤسنگ سکیم، پاکستان نیوی فارمز، سملی ڈیم روڈ، اسلام آباد، پیراڈائز سٹی، پارک ویو سٹی ہاؤسنگ سکیم، پارلیمنٹرینز انکلیو، رحمان انکلیو ہاؤسنگ سکیم،سپریم کورٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سکیم اور دیگر کے نام بھی ویب سائٹ پر شائع کئے گئے ہیں ۔

سوال اب یہ ہے کہ دنیا میں گرین سٹی ہو نے کی وجہ سے مشہور شہراسلام آباد کے نقشے پر متعدد نئی ہاؤسنگ سکیمیں ابھر رہی ہیں جو کہ مختلف میڈیا رپورٹز کے مطابق دس سال کے اندر تین گناہ زیادہ اسلام آباد کے بدلتے رنگ ،گرین سٹی سے ہاوسنگ سوسائٹیز کے کاروبار میں تبدیل ہوتا شہرمختلف مشکلات کا شکارہو رہا ہے جن میں سب سے زیادہ اسلام آباد کا گرین ایریا ، مطلب سر سبز علاقے سوسائٹیز میں تبدیل ہو رہے اس کا مطلب یہ ہے کہ گرین ایریا کا خاتمہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وفاقی دارلحکومت میں پانی کی شدید کمی واقع ہو رہی ہے اور خاص کر شہر بڑھتی ہوئی آبادی ، ٹریفک اور ماحولیاتی آلودگی سے بھی دوچار ہو رہا ہے۔ ان تمام حالات اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے مختلف طبقے سے بھی رائے جاننے کی کوشش کی گئی ۔

اکتوبر 2019 میں انسٹی ٹیوٹ آف اربنزم تھنک ٹینک کے بنیادی مقصد کے تحت تحقیق، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے اور پالیسی مشورے کے ذریعے پاکستان میں پائیدار شہری ترقی، وسائل کی مساوات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، سفارت کاری اور امن و سلامتی جیسے موضوعات پر گزشتہ 12 سالوں سے بین الااقومی سطح پرکام کرنے کا تجربہ رکھنے والی ماہر ماحولیات مومی سلیم نے کہا ہے اسلام آباد چند سال پہلے تک ماحول دوست شہر تھا مگر حالات اور واقعات کے ساتھ بڑھتی ہوئی رہائشی سوسائٹیز کے قیام نے شہر کے رقبے کو پھیلا دیا ہے جس نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کو متاثر کیا ہے۔ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں گرین رقبے کو ترجیحات میں شامل کیا گیا تھا اور بیس سال بعد ماسٹر پلان کو ضروریات کے  مطابق  چیک کر کے  دوبارہ نفاذ کیا جانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد شہر کا رقبہ 906 مربع کلومیٹر (350 مربع میل) ہے۔ مزید 2,717 مربع کلومیٹر (1,049 مربع میل) رقبہ مخصوص علاقے کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں شمال اور شمال مشرق میں مارگلہ پہاڑیاں ہیں مگر اب تو اس شہر کے بڑھتے ہوئے رقبے نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل، ماحولیاتی آلودگی ، ٹریفک، گرین بیلٹ میں کمی ، وسائل سے زیادہ مسائل نے شہریوں کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 1,151,868    تھی جبکہ شہریوں کی تعداد 529,180    تھی مگر اب آنے والی مردم شماری میں چند سالوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں واصخ ہو گا۔انہوں نے کہا اسلام آباد کے اندر اب بھی قدرتی جنگلات ہیں جہاں جانوروں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ نسل کے پرند چرند بھی موجودہ ہیں مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات آنے والے وقتوں میں پہاڑوں اور جنگلات پر بھی رونما ہو جائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد شہر کی اہمیت بین الااقومی سطح پر بھی بہت مثبت ہے ۔ یہ شہر ہمارا تعارف بھی ہے اگر ماحولیاگی آلودگی کے بڑھتے اثرات شہریوں کے ساتھ ملک کے بارے میں بھی غلط تاثر پیدا کر سکتے ہیں۔

پچھلے 26 سال سے مختلف میڈیا اداروں کے لیے سی ڈٰی اے کی بیٹ کرنے والے رپورٹر ملک محمد محبوب کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دس سالوں کے اندر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں خاص کر ہاوسنگ سوسائٹیز کی بڑی تعداد نے مسائل بھی پیدا کیا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سوسائٹی سی ڈی اے میں رجسٹر ہو کر این او سی ملنے سے پہلے ہی پلاٹوں کی الاٹمنٹ شروع کر دیتی ہے ۔ کئی سوسائٹیز کو بعد میں این او سی نہیں ملتا کیوں کہ وہ سی ڈی اے کے تقاضوں پر پورا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے پلاٹوں کی خرید کرنے والے عوام شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا شہرہوں کی مسائل حل کرنے کے لیے سی ڈی اے میں شکایت کا سیل قائم ہے جس میں رہائشوں کی جانب سے پانی کے مسائل، مرمت ، گندگی اورصاف ستھرائی، ٹریفک جام ،سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تو مسائل کی شکایت کی جاتی ہے۔ سی ڈی اے کی کی مثبت پالیسی ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ۔

اسلام آباد کی جی ایٹ کی رہائشی سارہ خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد گرین سٹی سے زیادہ عمارتوں کی تعداد میں ڈوب رہا ہے۔ کئی سالوں سے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے مگر اب چند سالوں سے محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد وفاقی شہر نہیں رہا بلکہ دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے روزگار تلاش کرنے والا شہر ہے ۔ یہی وجہ ہے بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار گرین سٹی مسائل سے دور چار ہے۔ شہر کی ٹریفک اور ماحول آلودگی نے شہریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے خاص کر دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ سٹرکوں اور گلیوں میں گھروں کا کوڑا پھینک دیتے ہیں۔شہر کے اندر سیکٹرز میں گندگی کے ڈھیروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کے چیرمین نورالامین نے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سی ڈی اے شہر کے معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق چلاتا ہے ۔ ہاوسنگ سوسائٹیز اگر تقاضوں کے مطابق قیام عمل میں لاتی ہیں تو تب  این او سی جاری ہوتا ہے۔ خاص کران تقاضوں میں گرین ایریا ، پانی کی سہولت، گاڑیاں پارک کرنے والا ایریا، صاف ستھرائی کا مناسب انتظام ، وسیع سڑکیں اور گلیوں کا مناسب انتظام کو ماحول دوست تقاضے ترجیحات میں شامل  ہیں ۔جس کے بعد سوسائٹیز کو این او سی فراہم ہوئے ہیں اور جو سوسائٹیز تقاضے پورے کرنے میں عملی مظاہرہ  نہیں کرتی ان کا این او سی معطل کر دیا جاتا ہے۔ ۔ اسلام آباد ماسٹر پلان  کے تحت چلا رہا ہے جوکہ بیس سال کے عرصے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔چند ماہ پہلے دسمبر میں ماسٹر پلان کو نظر ثانی کی سمری تیار  کر کے کمیشن کو منظوری کے لیے ارسال کیا  ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر پانچ سال بعد اسلام آباد ماسٹر پلان پر نظر ثانی ہونی چاہیے تاکہ شہر کے حالت واقعات کے مطابق انتظامی امور چلائے جائے

یہ بات تو واصخ ہے کہ سی ڈی اے اسلام آباد کو گرین سٹی کے پلان پر ہی چلانا چاہتا ہے ۔سی ڈی اے کی جانب سے کلین اینڈ گرین سٹی پروجیکٹ پر کام تو کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق  جس میں حالیہ عرصے میں اسلام آباد کی پرائیویٹ سیکٹر ہاوسنگ سکیموں کی طرف سے سی ڈی اے کے کلین اینڈ گرین فنڈ میں کورپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے تحت 4 کروڑ سے زائد مالیت کے چیک پیش کیے گئے تھے اس کے علاوہ سی ڈی کی جانب سے اسلا م آباد کے اردگرد علاقوں میں گلیوں ، سڑکوں کی پختگی ، پارکس و گراونڈز کی تعمیر کے لیے سی ڈی اے نے 10ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔

سوال اب بھی یہ ہی ہے کہ تمام تر اقدامات کے باوجود اسلام آباد کے شہریوں کے مسائل دور ہو سکے گئے یا اسلام آباد  گرین ماسٹر پلان کوقائم رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہونے سے بچ سکے گا۔

-- مزید آگے پہنچایے --