احسن اقبال کا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور

19

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (HLPF) 2026 کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے عالمی یکجہتی، موسمیاتی انصاف اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے صرف پانچ سال باقی ہیں، جبکہ عالمی معیشت کو درپیش بحرانوں، موسمیاتی آفات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے قرضوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت کو سست کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی تبدیلی کی حکمتِ عملی کے فریم ورک اڑان پاکستان کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ حکمتِ عملی معاشی نمو میں تیزی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ، موسمیاتی لچک، توانائی کے تحفظ اور ایسی جامع ترقی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے جس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران حکومت کی معاشی اصلاحات نے ملکی معیشت میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلاب اس امر کی واضح یاد دہانی ہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ماحولیاتی نظام کی بحالی، آبی تحفظ، صاف توانائی کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک فریق کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ اور غیرقانونی معطلی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے آبی تحفظ اور ذریعۂ معاش کے لیے سنگین خطرہ ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
وفاقی وزیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو موجودہ عالمی حقائق سے ہم آہنگ بنائے، ترقی پذیر ممالک کو رعایتی مالی وسائل تک بہتر رسائی فراہم کرے، موسمیاتی مالی معاونت سے متعلق وعدوں کو پورا کرے اور ایسے جدید مالیاتی ذرائع متعارف کرائے جو قدرتی آفات سے قبل ہی ممالک کی استعداد اور لچک کو مضبوط بنا سکیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے، جس کے لیے فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں